تحریر: شاہد عباس ہادی
اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امن و سلامتی کی سوغات صحابہ کرام رضی الله عنهم کو ختمی مرتبت صلی الله عليه وآله وسلم کے دامن رحمت سے ملی اور یہی سوغات اسلام کی اساس ہے۔ صحابہ کرام کی محبت کا دم بھرنے والا بدامن، فسادی اور شدت پسند نہیں ہوسکتا۔ شدت پسند کیسے صحابہ کی محبت کا دم بھرتا ہے جبکہ صحابہ کرام کی تعلیمات شدت پسندی کے خلاف تھیں۔ ہر وہ شخص یا گروہ جو طاقت کے ذریعے اپنے ایجنڈے، نظریے، عقیدے کا نفاذ چاہتا ہے اور دوسرے کی رائے بغیر کسی دلیل کے رد کرتا ہے وہ شدت پسند ہے۔ شدت پسندی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ آئے روز بےگناہ افراد کو گستاخِ صحابہ کے کٹہرے میں لاکر ایف آئی آر کٹوا دی جاتی ہے یا قتل کردیا جاتا ہے۔ قاتلانہ حملوں اور بے بنیاد ایف آئی آر کے سلسلوں کے بانی بدنام زمانہ دہشتگرد اورنگزیب فاروقی اور لدھیانوی ہیں، جو ناصرف اہل تشیع بلکہ عام شہریوں کے قتل میں ملوث ہیں۔ اس مسئلے کی آڑ میں وطن عزیز پاکستان میں قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا جارہا ہے۔
اگر ان دہشتگردوں نے گستاخِ صحابہ کی سزا مقرر کردی ہے تو ذرا اسلامی قوانین کے تحت صحابہ کا تعین کیا جائے، ابوسفیان و معاویہ اور یزید جیسے سفاک و ظالم شخص اگر صحابی رسول کے زمرے میں آتے ہیں تو بتایا جائے کن اسلامی قوانین کے تحت یہ لوگ صحابی ہیں؟ منکرین صحابہ کو کافر قرار دینا کس اسلامی قانون کے تحت ہے؟ اگر کوئی ایسا اسلامی قانون ہے تو معاویہ کو کافر کیوں نہیں کہا جاتا جبکہ وہ ببانگ دہل امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کا انکار کرتا ہے، سرعام حضرت علی(ع) پر سب و شتم کرتا ہے، ستر ہزار صحابہ کو قتل کرواتا ہے، ناصرف یہ بلکہ اس نے حضرت عائشہ ام المومنین کے بھائی محمد بن ابی بکر کو سرعام ظلم سے قتل کروایا جس کے بعد ام المومنین ہر نماز کے بعد معاویہ کے لیے بد دعا کرتی تھیں، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معاویہ کو باغی اور جہنم کی طرف بلانے والا کہا۔ مولانا مودودی نے خلافت و ملوکیت معاویہ کے خلاف لکھی۔ ڈاکٹر طاہر القادری کی بہت سی ویڈیوز یوٹیوب پر موجود ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ تیرہ سو سال سے اہل سنت کا معاویہ کے خلاف اجماع ہے کہ معاویہ کی حمایت کرنے والے دشمن اہل بیت اور یزیدی ہیں۔ معروف اہل حدیث عالم مولانا محمد اسحاق مرحوم و مغفور کی سینکڑوں تقاریر اور کتابیں موجود ہیں جو معاویہ کے ان سارے کارناموں کی تصدیق کرتی ہیں جو اوپر بیان ہوچکے ہیں۔ معاویہ کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا باغی اور جہنمی قرار دینے والی حدیث کی تصدیق مولانا طارق جمیل صاحب نے بھی ببانگ دہل کی ہے۔ اب آپ بتا دیں کہ جسے پیغمبر اکرم ص باغی قرار دیں، 70 ہزار صحابہ کا قاتل ہو، اسے جنت کی ٹکٹ دے کر پیغمبر(ص) سے بغاوت کے مرتکب نہیں ہو رہے؟ کیا یہ توہین رسالت نہیں ہے؟
ان تمام ویڈیوز اور علماء کے بیانات کے تحت اہلسنت کے بعض فرقے دوسرے بعض فرقوں کو گستاخ قرار دیتے ہیں، اہلسنت میں شافعی و بریلوی اور دیگر فرقے معاویہ و ابوسفیان کو کافر اور جہنمی قرار دیتے ہیں کیا ان تمام کو گستاخ صحابہ قرار دیکر ایف آئی آر کاٹی جائے گی؟ کیا ان تمام کو قتل کیا جائے گا؟ صحاح ستہ میں معاویہ و ابوسفیان کے خلاف احادیث و تاریخ ملتی ہے، گستاخی کا مقدمہ درج کرنے سے پہلے ان کتابوں کو جلا کیوں نہیں دیا جاتا جو توہین معاویہ و ابوسفیان میں برابر کی شریک ہیں۔
ہم دیکھ رہے ہیں سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی، اورنگزیب فاروقی اور انکے ہمنواء عظمت صحابہ کے نام پر فتنہ پروری اور دہشتگردی کی ظالمانہ کاروائیوں میں ملوث ہیں۔ عظمت صحابہ کے دعویدار خود جلیل القدر صحابہ کی گستاخیوں میں ملوث نظر آتے ہیں، حضرت ابوذر غفاری، حضرت محمد بن ابی بکر، حضرت مقداد حتی کہ امام علی علیہ السلام کی شان اقدس میں گستاخی کی مثالیں تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں لیکں افسوس ان گساخیوں پر ایف آئی آر اور قتل کی سزا کسی نے مقرر نہیں کی۔
ایف آئی آر کا ناتھمنے والا یہ سلسلہ آخر کب تک رہے گا؟ علماء اور ذمہ دار افراد کو اس مسئلے پر ہرگز خاموش نہیں رہنا چاہئیے ورنہ یہ مسئلہ مسلسل خانہ جنگی کی طرف بڑھتا رہے گا، شدت پسندی کی فصل پکتی رہے گی، جس کا پھل قتل و غارت کی صورت ملتا رہے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲